بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کی نماز کے لیے جماعت شرط ہے

سوال

کیا جمعہ کی نماز بغیر جماعت کے پڑھ  سکتے ہیں؟

جواب

جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے  دیگر شرائط کے ساتھ ایک  ”جماعت“  کا ہونا بھی  شرط ہے، اور جمعہ کی جماعت قائم کرنے کے لیے امام کے علاوہ کم از کم تین عاقل بالغ مرد  مقتدیوں کا ہونا ضروری ہے۔ انفرادی طور پر یا امام کے علاوہ تین سے کم مقتدی ہونے کی صورت میں  جمعہ ادا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اگر کوئی شہر یا بڑی بستی میں چار مردوں سے کم افراد ہوں تو انہیں جمعے کے وقت میں ظہر کی نماز تنہا ادا کرنی چاہیے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (5 / 171):
"( قوله: والجماعة وهم ثلاثة) أي شرط صحتها أن يصلي مع الإمام ثلاثة فأكثر؛ لإجماع العلماء على أنه لا بد فيها من الجماعة، كما في البدائع، وإنما اختلفوا في مقدارها فما ذكره المصنف قول أبي حنيفة ومحمد، وقال أبو يوسف: اثنان سوى الإمام؛ لأنهما مع الإمام ثلاثة، وهي جمع مطلق؛ ولهذا يتقدمهما الإمام ويصطفان خلفه، ولهما أن الجمع المطلق شرط انعقاد الجمعة في حق كل واحد منهم وشرط جواز صلاة كل واحد منهم ينبغي أن يكون سواه فيحصل هذا الشرط ثم يصلي، ولايحصل هذا الشرط إلا إذا كان سوى الإمام ثلاثة؛ إذ لو كان مع الإمام اثنان لم يوجد في حق كل واحد منهم الشرط بخلاف سائر الصلوات؛ لأن الجماعة فيها ليست بشرط، كذا في البدائع". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202510
تاریخ16-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں