بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان کے الفاظ آگے پیچھے ہو جائیں

سوال

اذان کے الفاظ آگے پیچھے ہو جائیں تو  کیا حکم ہے؟

جواب

اگر ااذان  کے  الفاظ  آگے پیچھے ہوجائیں   یا کوئی کلمہ بھول سے چھوٹ جائے تو فوراً یاد آنے کی صورت میں جہاں غلطی ہوئی ہے اس کو  صحیح کرکے  پڑھ لے۔ شروع سے پوری اذان  کو دہرانا ضروری نہیں، اور اگر کچھ  دیر کے  بعد یاد آئے اور نماز کا وقت باقی ہو تو  شروع سےاذان کا  اعادہ کرلے۔

"․․ ولو قدم فیهما موٴخرًا، أعاد ما قدم فقط ولایتکلم فیها أصلاً، فإن تکلّم استأنف.

وقال الشامي: "کما لو قدم الفلاح علی الصلاة یعیده فقط أي ولایستأنف الأذان من أوله ..." الخ․ (شامي کراچی: ۱/ ۳۶۱) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202482
تاریخ16-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں