بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مجنون آدمی کو زکاۃ دینا

سوال

اگر کوئی شخص پاگل ہے اور غریب بھی ہے تو کیا اس کو  زکاۃ دے سکتے ہیں ؟

جواب

اگر پاگل/مجنون شخص زکاۃ کا مستحق ہے تب بھی اسے  زکاۃ دینے سے زکاۃادا نہ ہوگی، البتہ  مستحق ہونے کی صورت میں اگر  اس کا ولی/ سرپرست اس کی طرف سے قبضہ کرلے تو زکاۃ  ادا  ہوجائے گی۔

بدائع الصنائع (2/ 39):
"وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبي فقير أو مجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز؛ لأن الولي يملك قبض الصدقة عنه". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202472
تاریخ16-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں