بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر فاطمی طے ہوا تھا، چاندی کی کس قیمت کا اعتبار ہوگا؟

سوال

 بندہ  کے نکاح میں مہر فاطمی مقرر ہوا تھا، مہرفاطمی(131 تولہ تین ماشہ چاندی ) کی قیمت بندہ کے نکاح والے دن (23 دسمبر 2016 ) کو 97ہزار اور 125 روپے (Rs 97,125) تھی۔ مہر مؤجل مقرر ہوا تھا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام متعلق اس کے کہ اگر بندہ آج اس کو  ادا کرے گا تو کیا چاندی کی موجودہ قیمت کے حساب سے ادا کرنا ہوگا یا نکاح والے دن کی قیمت کے حساب سے ( 97,125 Rs) دینا ہوگا ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں چوں کہ مہرِ فاطمی (یعنی 131 تولہ تین ماشہ چاندی) مہر طے ہوا ہے؛  لہذا  نقدی مہر دینے کی صورت میں ادائیگی کے وقت جو بھی چاندی کا ریٹ ہوگا، اس حساب سے چاندی کی قیمت دینی ہوگی۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202434
تاریخ15-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں