بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سامع کے بیمار ہوجانے کی وجہ سے بغیر سامع کے تراویح کیسے پڑھی جائے؟

سوال

اگر سامع تراویح میں چند دن بعد بیماری کی وجہ سےکچھ دن نہ آسکے اور کوئی دوسرا سامع بھی نہیں مل سکے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ تراویح موجودہ حالات میں گھر پر ادا کی جارہی ہے اور صرف گھر کے لوگ ہی ہیں!

جواب

تراویح کی نماز کے درست ہونے کے  لیے سامع کا ہونا شرط نہیں ہے، اگر کوشش کر کے اچھی طرح سے قرآن یاد کر کے تراویح میں قرآن سنایا جائے تو سامع کے بغیر بھی تراویح پڑھی جاسکتی ہے، اگر حفظ میں کچھ  کم زوری ہو تو تراویح پڑھانے والے کے  لیے بغیر سامع کے تراویح پڑھانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے قریب قرآن پاک کا نسخہ رکھے اور   ہر  دو یا چار رکعت کے بعد آگے پڑھی جانے والی مقدار  کے بقدر  (یا جس جگہ شک ہو) قرآن پاک میں دیکھ کر دہرا لیا کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202428
تاریخ15-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں