بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ اور عید کی نماز فاسد ہو جائے تو کیا کرے؟

سوال

اگر جمعہ یا عید کی نماز فاسد ہوجائے تو کیا کرے؟نماز کا اعادہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں جب کہ نماز باطل ہو چکی ہو۔

جواب

اگر جمعہ کی نماز میں امام سے ایسی کوئی غلطی ہو جائے جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہو تو جمعے کے وقت کے اندر جماعت سے اس نماز کا اعادہ کرنا چاہیے۔ اگر کوئی مقتدی اس مسجد سے جاچکاہو اور اسے نماز فاسد ہونے کا علم ہوجائے تو  وقت کے اندر اندر دوسرے امام کی اقتدا میں ادا کرسکتا ہے۔

اور اگر وقت گزرنے کے بعد نماز کے فساد کا  علم ہو تو جمعے کی بجائے ظہر کی چار رکعت پڑھے، اور عید کی قضا نہیں۔

اور اگر جمعہ یا عید کی نماز میں امام سے ایسی کوئی غلطی ہوجائے جس سے سجدہ  سہو واجب ہوتا ہو، لیکن مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے مجمع کے انتشار ( غلط فہمی) میں پڑنے کا اندیشہ ہو  تو ایسی صورت میں سجدہ سہو نہ کرنا افضل ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 92):

" (والسهو في صلاة العيد والجمعة والمكتوبة والتطوع سواء) والمختار عند المتأخرين عدمه في الأوليين لدفع الفتنة كما في جمعة البحر، وأقره المصنف، وبه جزم في الدرر.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202392
تاریخ15-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں