بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زرعی بینک سے قرض لینا

سوال

زرعی بینک سے قرض لینا شرعاً کیسا ہے؟ اگر کوئی وہ قرض سال میں واپس کرے تو ان سے سود نہیں لیا جاتا!

جواب

زرعی بینک سے قرض لینا جائز نہیں، اگرچہ قرض لیتے ہوئے یہ نیت ہو کہ سال میں واپس کردے گا، تاکہ اضافی رقم نہ دینی پڑے؛ کیوں کہ اس قرض کے معاہدے میں یہ شرط ہوتی ہے کہ اگر رقم سال میں واپس نہیں کی تو اضافی رقم دے گا، جس طرح سود کا لین دین حرام ہے اسی طرح سودی معاہدہ کرنا بھی ناجائز اور حرام ہے۔

"وقد روي عن عمر بن عبدالعزيز رضي الله عنه أنه أخذ قومًا يشربون الخمر، فقيل له عن أحد الحاضرين: إنه صائم، فحمل عليه الأدب وقرأ هذه الآية: {إِنَّكُمْ إِذاً مِثْلُهُمْ}، أي إن الرضا بالمعصية معصية؛ ولهذا يؤاخذ الفاعل والراضي بعقوبة المعاصي حتى يهلكوا بأجمعهم."

الجامع لأحكام القرآن (5/ 418)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202370
تاریخ15-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں