بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک شریک کا مشترکہ گاڑی کرائے پر دینا

سوال

 میں دبئی میں رہتا ہوں،  ہم دو دوستوں نے مل کر ایک گاڑی لی ہے، گاڑی کی قیمت 20000 درھم ہے،  جس میں میرے دس ہزار ہیں. اب گاڑی وہ کرائے پر چلاتا ہے مجھے  مہینے کے 700 درھم دیتا ہے جو کے فکس کیے ہیں،  کیا یہ فکس رقم سود میں شامل ہوگی ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب گاڑی دونوں کے درمیان مشترک ہے اور ایک شریک گاڑی چلاکر دوسرے کو اس کے حصے کا متعین کرایہ ادا کرتاہے تو ایسا کرنا جائز ہے،  یہ سود میں شامل نہیں ہے۔

فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:

"قال محمد رحمه اللّٰه تعالی: في رجل آجر نصف داره مشاعًا من أجنبي لم یجز، وإذا أجر من شریکه یجوز بلا خلاف في ظاهر الروایة، سواء کان مشاعًا یحتمل القسمة أو لایحتمل". (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۱۵؍۱۲۴ رقم: ۲۲۴۰۳) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144109202366
تاریخ15-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں