بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں تین رکعات اکھٹی پڑھ لینا

سوال

اگر تراویح میں امام صاحب نے تین رکعات پڑھی اور دوسری رکعات میں سجدہ کے بعد کھڑے ہوگئے اور پھر سجدہ سہو بھی کیا تو کیا اس صورت میں تراویح کی دو رکعات ہوجاتی ہے یا واپس دوہرانے کی ضرورت ہے ؟

جواب

دوسری رکعت میں سجدہ کے بعد تیسری رکعت  کے لیے کھڑے ہونے کی صورت میں تیسری رکعات کے بعد قعدہ کرنے کی صورت میں آخر میں اگرچہ سجدہ سہو کیا ہو لیکن ایسی صورت میں چونکہ دو رکعت کے بعد قعدہ نہیں کیا ، اس لیے نماز کا اعادہ اور تراویح میں قرآن کی تکمیل کی غرض سے  ان تین رکعات میں پڑھی گئی قراءت کا لوٹانا بھی ضروری ہوگا، ورنہ تراویح میں مکمل  قرآن سننا یا سنانا کی سنت مکمل نہ ہوگی۔ 

جوہرہ میں ہے:

"وإذا فسد الشفع وقد قرأ فيه لايعتد بما قرأه فيه، ويعيد القراءة؛ ليحصل الختم في الصلاة الجائزة".

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 98)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202361
تاریخ15-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں