بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنازہ کی نماز جہراً پڑھانا

سوال

ایک جنازہ میں شریک ہوا، امام صاحب نے ثناء ، درود اور دعائیں جہری طور پر پڑھیں ، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

نمازِ جنازہ سراً پڑھنا سنت ہے، اگر کسی امام نے جنازہ کی نماز جہر اً پڑھادی تو یہ جنازہ ادا ہوگیا، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ ایسا کرنا خلافِ سنت ہے؛ لہٰذا اگر قصداً ایسا کیا تو کراہت ہوگی، اور اس کی مستقل عادت بنالینا سنتِ متوارثہ کی مخالفت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202358
تاریخ15-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں