بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آن لائن اشتہارات کے ذریعہ کمائی کا حکم

سوال

ایک کمائی کا طریقہ ہے کہ جس میں زید پچاس ہزار روپے  کسی کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع کردیتا ہے اور روزانہ آن  لائن  پانچ اشتہارات دیکھنے ہوں گےاور اس دیکھنے سے اس کو منافع ملتا رہےگا۔سال گزرنے کے ساتھ ہی اصل مال ختم ہوجاتا ہے ،واپس نہیں ملتا۔ جس دن اشتہار نہ دیکھے اور یا پورے پانچ نہ دیکھے تو اس دن کا منافع نہیں ملتا اور اگر زید یہ پیسے نکالنا چاہے  تو پانچ چھ ماہ تک یہ پیسے نہیں نکال سکتا۔

جواب

آن لائن ایڈز کے ذریعے پیسے کمانے کے لیے مختلف اشتہارات پر کلک کرنا پڑتا ہے اور ان کلک کے بدلہ آدمی کو معاوضہ ملتا ہے یہ  کمائی درج ذیل وجوہات کی بنا  پر ناجائز ہے:

1- اس میں ایسے لوگ  اشتہارات کو دیکھتے ہیں  جن کایہ چیزیں لینے کا کوئی ارادہ ہی نہیں، بائع کو ایسے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ دکھانا جو کہ کسی طرح بھی خریدار نہیں، یہ بیچنے والے کے ساتھ  ایک قسم کا دھوکا ہے۔

2-  ان اشتہارات  میں  جان دار کی تصاویر بھی موجود ہوتی ہیں اور جان دار کی تصویر  کسی بھی طرح کی ہو اس کا دیکھنا جائز نہیں؛ لہذا اس پر جو اجرت  لی جائے گی وہ بھی جائز نہ ہوگی۔

3- ان اشتہارات میں  خواتین کی تصاویر بھی ہوتی ہیں جن کا دیکھنا بدنظری کی وجہ سے مستقل گناہ ہے۔

4- شریعت میں بلا محنت کی کمائی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور اپنی محنت کی کمائی حاصل کرنے کی ترغیب ہے اور اپنے ہاتھ کی کمائی کو افضل کمائی قراردیا ہے۔

لہذا زید کے لیے آن لائن اشتہارات دیکھنے کے مشغلہ کو اپنے لیے کمائی کا ذریعہ بنانا درست نہیں ۔ 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202349
تاریخ15-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں