بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکان بطور گروی لینا

سوال

گروی مکان لینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

قرض کے لین دین کے وقت بطورِ وثیقہ (گروی) رکھنا یا رکھنے کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔

اگر آپ کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ مثلاً: آپ سے کوئی شخص قرض لیتا ہے اور آپ کے پاس مکان گروی رکھتا ہے تو یہ مکان مرہون (گروی)ہے، آپ کے لیے قرض کی رقم کے بدلہ گروی میں مقروض سے مکان لے کر اپنے پاس رکھنا جائز ہے، اس صورت میں آپ  مرتہن ہیں، اور  جس کے پاس  کوئی چیز  گروی رکھی جائے وہ اس کا مالک نہیں ہوتا، نہ اس کو استعمال کرنے کی اجازت ہے، اگر اس دوران گروی رکھی ہوئی چیز سے استفادہ کیا تو یہ سود کے حکم میں اور ناجائزہوگا۔ لہذا اس مکان سے (جو گروی کی صورت میں آپ کے پاس رکھوایاگیا ہے) فائدہ اٹھانا آپ کے لیے جائز نہ ہوگا، البتہ اگرمرتہن  (قرض دینے والا)رہن کے مکان میں راہن کی اجازت سے کرایہ پر رہنا چاہے تو  رہ سکتاہے ، لیکن پہلا معاملہ (عقدِ رہن) کا ختم ہوجائے گا، اور اس پر اِجارہ (کرایہ داری) کے احکام جا ری ہوں گے، تاہم قرض کی وجہ سے کرایہ میں کمی نہیں کی جائے گی۔ اور اگر گروی کے عوض ہی اس میں رہائش رکھی گئی  کرایہ ادا نہ کیا گیاتو  یہ اپنے قرض سے نفع اٹھانا ہے جو شرعاً سود کے حکم میں ہے۔

اور اگر سوال کا مقصد یہ ہے کہ مکان کرایہ پر لینے کے لیے سیکورٹی کے طور پر کچھ  رکھوانا جائز ہے یا نہیں؟ تو شرعاً یہ جائز ہے، البتہ  سیکورٹی کی رقم میں اضافہ کرکے کرایہ معروف کرایہ سے بہت کم کرنا  شرعاً جائز نہیں خواہ فریقین کی باہمی رضا مندی سے ہی کیوں نہ ہو ۔

 اگر سوال سے کچھ اور مقصود ہے تو واضح کرکے دوبارہ سوال کیجیے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144109202232
تاریخ14-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں