بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے اعتکاف کے دوران گرمی یا گندگی کے لیے غسل کرنا

سوال

آج کل بہت سارے گھروں میں کمروں سے منسلک غسل خانے موجود ہیں,اگر عورت کسی ایسے کمرے میں اعتکاف کرتی ہے تو  کیا اس کے لیے گرمی یا گندگی سے بچنے کے لیے غسل جائز ہو گا؟

جواب

عورت دورانِ اعتکاف ٹھنڈک حاصل کرنے کی غرض سے غسل کے لیے نہیں نکل سکتی، البتہ اگر  معتکفہ خاتون اعتکاف والے کمرے میں ایک طرف  پردے میں بیٹھ  کر غسل کرلے یا بیت الخلا جانے کا تقاضا ہو  اور  اسی نیت سے باتھ روم جائے تو  بہت مختصر وقت میں پانی کے دو تین لوٹے بدن پر بہا لے، اگر صرف ٹھنڈک کے غسل کی نیت سے جائے گی تواعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202224
تاریخ14-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں