بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رات کو سحری کرکے سونا

سوال

میری بیوی کی عادت ہے کہ 1 بجے کھانا کھا کر روزہ  کی نیت کر لیتی ہے, کیا سحری کا کوئی وقت مقرر ہے کہ اس وقت سے پہلے سحری نہیں کھا سکتے؟

جواب

سحری کھانے  کا وقت صبح صادق سے پہلے پہلے کا ہے، رات کو ہی سحری کرکے سوجانا یا صبح صادق سے بہت دیر پہلے سحری کا معمول بنانا درست نہیں ہے، صبح صادق سے اس قدر پہلے سحری بند کردیں کہ یقین ہو کہ صبح ہونے سے پہلے پہلے کھانا بند کردیا گیا ہے۔

فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ رات کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے تو آخری چھٹے حصے میں سحری کرنا مسنون (مستحب) ہے، اس سے پہلے کا معمول نہ بنایا جائے، مثلاً رات بارہ گھنٹے کی ہو تو صبح صادق سے پہلے والے دو گھنٹوں میں کسی وقت بھی سحری کرنے سے استحباب پر عمل ہوجائے گا، اور صبح صادق کے قریب آخر وقت میں زیادہ افضل ہوگا؛ لہٰذا آپ کی اہلیہ کا رات ایک بجے سحری کا معمول بنالینا پسندیدہ نہیں ہے۔

"عَنْ سَهلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أُنْزِلَتْ: (وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ) وَلَمْ یَنْزِلْ مِنَ (الْفَجْرِ) فَکَانَ رِجَالٌ إِذَا أَرَادُوا الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهمْ فِي رِجْلِه الْخَیْطَ الْأَبْیَضَ وَالْخَیْطَ الْأَسْوَدَ وَلَمْ یَزَلْ یَأْکُلُ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَه رُؤْیَتُهمَا فَأَنْزَلَ اﷲُ بَعْدُ {مِنَ الْفَجْرِ} فَعَلِمُوا أَنَّه إِنَّمَا یَعْنِي اللَّیْلَ وَالنَّهارَ". (صحيح البخاری، 2: 677، رقم: 1818) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202215
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں