بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک کا فدیہ مہینہ مکمل ہونے سے پہلے ادا کرنا

سوال

کیا روزوں کا فدیہ رمضان گزرنے سے پہلے ادا کر سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو ایڈوانس میں ادا کرنے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؛  تاکہ غریب کی عید سے پہلے مدد کی جائے اور وہ اپنی ضرورت پوری کرلے؟

جواب

رمضان المبارک کے روزوں کا فدیہ رمضان المبارک کے مہینے میں مہینہ مکمل ہونے سے پہلے ادا کرنا جائز ہے۔

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اس قدر بیمار ہو جائے کہ اب اس کے صحت یاب ہونے کی امید نہ رہے تو ایسےشخص کی طرف سے اس کے قضا روزوں کا فدیہ ادا کیا جائے گا،  لیکن اگر وہ شخص اس قدر بیمار ہے کہ وہ ایک ایک دو دو کرکے وقفہ وقفہ سے روزے رکھ سکتا ہے تو  اس کے ذمے روزہ کی قضا ہی ضروری ہے، فدیہ ادا کرنے سے ذمہ ختم نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر فدیہ ادا کرنے بعد روزہ رکھنے پر قادر ہوجائے تو فدیہ باطل ہوجائے گا، قضا کرنا لازم ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (2 / 427):
"(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبًا، ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرًا وإلا فيستغفر الله".

و في الرد:

"(قوله: ولو في أول الشهر) أي يخير بين دفعها في أوله وآخره، كما في البحر". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202211
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں