روزوں اور نمازوں کی فدیہ کی رقم یک مشت دینا ضروری نہیں
سوال
روزوں اور نمازوں کے فدیہ کی رقم اگر زیادہ بن رہی ہو تو کیا اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کر سکتے ہیں ؟ یا یک مشت ادا کرنا ضروری ہے ؟
جواب
روزوں اور نمازوں کے فدیہ کی رقم اگر زیادہ بن رہی ہو تو بہتر یہ ہے کہ جلد از جلد اسے ادا کردے، تاہم یک مشت دینا ضروری نہیں، تھوڑا تھوڑا کرکے دینا بھی جائز ہے۔ فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144109202210
تاریخ13-05-2020

