بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزوں اور نمازوں کی فدیہ کی رقم یک مشت دینا ضروری نہیں

سوال

روزوں اور نمازوں کے فدیہ کی رقم اگر زیادہ بن رہی ہو تو کیا اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کر سکتے ہیں ؟ یا یک مشت ادا کرنا ضروری ہے ؟

جواب

روزوں اور نمازوں کے فدیہ کی رقم اگر زیادہ بن رہی ہو تو بہتر یہ ہے کہ جلد از جلد اسے ادا کردے،  تاہم یک مشت دینا ضروری نہیں، تھوڑا تھوڑا کرکے دینا بھی جائز ہے۔  فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202210
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں