بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہر نماز میں امام کا رکوع کے بعد دعا مانگنے اور مقتدیوں کا آمین کہنے کا حکم

سوال

یہاں ہر نماز میں امام  رکوع کے بعد دعا پڑھتا ھے، مقتدی آمین کہتے ہیں اور آخر میں  درود پڑھتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے احادیث کی روشنی میں؟

جواب

فقہ حنفی کے مطابق ہر فرض نماز  میں رکوع کے بعد امام کا دعا مانگنا اور مقتدیوں کا آمین کہنا اور آخر میں  درود شریف پڑھنا احادیث سے ثابت نہیں ہے۔ البتہ اگر سائل کا سوال قنوتِ نازلہ کے بارے میں ہے اور سائل کی قریبی مسجد میں ہر جہری نماز کی دوسری رکعت کے رکوع کے بعد امام قنوتِ نازلہ پڑھتا ہے اور آخر میں درود شریف پر دعا ختم کرتا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر مسلمانوں پر عمومی آزمائش یا مصیبت آجائے تو فجر کی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع کے بعد امام  کو قنوتِ نازلہ پڑھنی چاہیے، اور مقتدی اس کی دعا پر آہستہ آواز  میں آمین کہیں، اور قنوتِ نازلہ عمومًا درود شریف پر ہی ختم کی جاتی ہے، اور دعا کے آداب میں سے بھی ہے کہ اس کے شروع یا آخر میں یا دونوں موقعوں پر درود شریف پڑھا جائے۔ لیکن فجر کے علاوہ دیگر نمازوں میں، خواہ وہ جہری ہوں، قنوتِ نازلہ نہیں پڑھنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202206
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں