بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پینٹ شرٹ میں امامت

سوال

کیا پینٹ اور ٹی شرٹ میں امامت کرا سکتے ہیں؟

جواب

اتفاقیہ امام بننے کی ضرورت پیش آگئی اور کوئی دوسرا شخص صلحاء کے لباس میں نہیں تو  پینٹ شرٹ والے کی امامت درست ہے۔  البتہ  مستقل امام کو غیر صلحاء کا لباس نہیں پہننا چاہیے، ایسے لباس میں اس کی امامت مکروہ ہوگی۔

اس لباس کے مکروہ ہونے کی درج ذیل وجوہات ہیں :

(الف) بالعموم ٹخنے سے  نیچے تک ہونا۔ اور اگر فولڈ کیا جائے تو وضع غیر شائستہ ہوتی ہے۔

(ب)بالعموم تنگ اور چست ہونے کی وجہ سے رکوع سجدہ میں تکلف ہونا ، تشہد میں سنت کے مطابق نہ بیٹھ سکنا۔

(ج) اگر بہت زیادہ چست ہو کہ اعضاء کی ساخت وبناوٹ ظاہر ہو تو صرف یہی ایک وجہ اس کی کراہت کے لیے کافی ہے۔ 

(د) استنجا کی ضرورت پیش آگئی تو باطمینان استنجا سے فراغت نہ کرسکنا جس کی بنا پر قطرات بعد میں آجانا اور کپڑے کا ناپاک ہوجانا۔

(ہ) غیر صلحاء  کا لباس ہونا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202203
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں