بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز جنازہ کی نیت بھول جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر نماز جنازہ پڑھائی اور نیت بھول گیا، آیا نماز ہوگی یا نہیں?

جواب

"نیت" دل کے ارادے کا نام ہے،  زبان سے الفاظ کی ادائیگی ضروری نہیں ہے،  اس لیے  نمازِ جنازہ شروع کرنے سے پہلے بطورِ نیت کہنے کے لیے مخصوص الفاظ نہیں ہیں، لہذا جنازہ پڑھانے سے پہلے دل میں اگر یہ نیت ہو کہ جنازہ پڑھارہا ہوں تو بھی کافی ہے، اس سے جنازہ کی نماز ادا ہوجائے گی، اور یہ ارادہ عموماً ہر جنازہ پڑھانے والے کے دل میں ہوتاہے، لہٰذا نمازِ جنازہ ادا ہوگئی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 414):

"(و) الخامس (النية) بالإجماع (وهي الإرادة) المرجحة لأحد المتساويين أي إرادة الصلاة لله تعالى على الخلوص (لا) مطلق (العلم) في الأصح، ألا ترى أن من علم الكفر لايكفر، ولو نواه يكفر (والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب؛ لأنه كلام لا نية إلا إذا عجز عن إحضاره لهموم أصابته فيكفيه اللسان، مجتبى (وهو) أي عمل القلب (أن يعلم) عند الإرادة (بداهة) بلا تأمل (أي صلاة يصلي) فلو لم يعلم إلا بتأمل لم يجز". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202196
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں