بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا چارپائی بچھانا

سوال

کیا اعتکاف کے دوران چارپائی رکھی جاسکتی ہے؟

جواب

اگر معتکف مسجد میں ہو اور مسجد میں نیچے سونے میں تکلیف ہو تو چارپائی رکھنا درست ہے اور چارپائی پر سوسکتا ہے، البتہ عرف میں چوں کہ مسجد میں چارپائی ڈال کر اس پر سونا مسجد کے آداب کے خلاف سمجھا جاتاہے، اس لیے عذر نہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ چند دن کے لیے زمین پر ہی سونے کا اہتمام کرے ۔ 

اور عورت کے لیے گھر میں اپنے اعتکاف کی جگہ پر چارپائی رکھنا اور سونا درست ہے۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے :

معتکف مسجد میں چار پائی پر سو سکتا ہے یا نہیں ؟:
(سوال ۳۶۰)معتکف اپنے معتکف (حجرہ) میں چار پائی (پلنگ) پر سوسکتا ہے یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔
(الجواب)معتکف مسجد میں چارپائی پر سوسکتا ہے،  کما في سفر السعادة وابن ماجه: "أن رسول اﷲ ﷺکان إذا اعتکف طرح له فراشه أو یوضع له سریره وراء أسطوانة التوبة". (مجموعہ فتاویٰ ج۲ ص ۱۸)فقط واﷲ اعلم بالصواب ۔(7/281)

فتاوی محمودیہ میں ہے :

’’معتکف اپنے اعتکاف کی جگہ چارپائی بچھا سکتا ہے ، اور اس پر لیٹ سکتا ہے، مگر آج کل عرفاً مسجد میں چارپائی بچھانا خلاف احترام سمجھا جاتاہے، اس لیے احتیاط چاہیے، عورت کو اپنی اعتکاف کی جگہ یہ اشکال نہیں ۔..‘‘۔(10/250)فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202177
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں