بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں طلاق دینے کا حکم

سوال

کیا رمضان المبارک میں طلاق دینے سے طلاق ہو جاتی ہے؟

جواب

طلاق واقع ہونے کے لیے شرعاً شوہر کی جانب سے بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کرکے طلاق دینا ضروری ہے، پس اگر شوہر بیوی کی طرف طلاق کی نسبت کرکے دے دے تو طلاق واقع ہوجاتی ہے، خواہ کوئی سا بھی مہینہ ہو، اور بیوی کی کوئی بھی حالت ہو، یعنی پاک ہو، یا ماہواری میں ہو، یا حمل سے ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں ماہ رمضان میں طلاق دینے سے  واقع ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202145
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں