بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا خوشبو لگانا

سوال

عورت کے خوش بو لگانے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟

جواب

عورت کے لیے ایسی خوشبو لگانے کی اجازت ہے جس کی مہک کم ہو اور اس میں رنگ غالب ہو،عورتوں کے لیے پھیلنے والی خوش بو   لگاکر  باہرنکلنا جس سے لوگ متوجہ ہوں ناجائز ہے،  ایسی عورت گناہ گار ہے،اس عمل سے اجتناب ضروری ہے ۔

البتہ اگرعورت  گھر کے اندر اپنے شوہر کے لیے پھیلنے والی خوش بو استعمال کرے تو اس کی اجازت ہے، لیکن اگر گھر میں نامحرم افراد بھی ہوں تو ایسی خوش بو استعمال کرنے سے اجتناب کرے۔

 حدیث شریف میں ہے :

"عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: كل عين زانية، والمرأة إذا استعطرت فمرت بالمجلس فهي كذا وكذا -يعني زانية-".

(سنن الترمذي (5 / 106)

ترجمہ:حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آنکھ زنا کار ہے اور عورت جب خوش بو   لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ بھی ایسی ایسی ہے، یعنی وہ بھی زانیہ ہے“۔

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202137
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں