بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا استنجاء سے روزہ ٹوٹتا ہے؟

سوال

 کیا استنجاء سے روزہ ٹوٹتا ہے? اور اگر ٹوٹتا ہے تو بندے کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

استنجا کرنے  سے روزہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب پانی مقعد کے اندرونی مقام تک پہنچ جائے، عام طور پر استنجا میں ایسا ہوتا نہیں، اس لیے معمول کے استنجا سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 397):

"ولو بالغ في الاستنجاء حتى بلغ موضع الحقنة فسد، وهذا قلما يكون ولو كان فيورث داء عظيمًا". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202134
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں