بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سورج طلوع ہونے کے بعد رمضان کے روزے کی نیت کرنا

سوال

صبح سورج طلوع کے بعد  آنکھ  کھلی، رات کو روزے کا ارادہ تھا، لیکن سحری کے وقت آنکھ نہیں کھلی، میرے شوہر نے کہا کہ روٹی کھالو، میں نے کہا کہ نہیں میں روزہ رکھوں گی تو شوہر نے 5 منٹ بعد کہا کہ دیکھ لو، پھر نہ کہنا کہ گردوں میں درد ہے، میں گردہ کی مریضہ بھی ہوں تو اب کیا میں روزے سے ہوں یا کھا پی سکتی ہوں؟

جواب

اگر سورج طلوع ہونے کے بعد نصف النہار  (یعنی صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب کے وقت کے نصف) سے پہلے پہلے کچھ  کھانے پینے سے پہلے آپ نے روزہ کی نیت کرلی تو  آپ کا روزہ شروع ہوگیا، اس کے بعد آپ کے لیے کچھ کھانا پینا جائز نہیں، الا یہ کہ روزے کے دوران ناقابلِ برداشت تکلیف ہو اور دوا لینا ضروری ہوجائے تو بوجہ مرض روزہ توڑنے کی اجازت ہوگی، اس صورت میں بعد میں ایک روزے کی قضا کرنی ہوگی۔ فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202115
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں