بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ خریدنے کے بعد تجارت یا رہائش کی نیت میں تردد ہو تو اس پر زکاۃ کا حکم

سوال

چند برس پہلے میں نے ایک پلاٹ خریدا، دل میں کوئی خاص نیت نہیں تھی  کہ تعمیر کے بعداس میں رہائش اختیار کرنی ہے یا فروخت کر کے نفع کماناہے۔دل میں یہ بھی تھا کہ تعمیر کر کے رہائش اختیار کریں گے اور  یہ خیال بھی تھا کہ اچھا منافع مل گیا تو اسے فروخت کر دیں گے ؛ تاکہ رہائش کے لیے کوئی اور پلاٹ لے سکیں، تب سے اب تک دل میں یہ بے چینی سی ہے کہ آیا اس پلاٹ پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ 

جواب

مذکورہ صورت میں چوں  کہ پلاٹ خریدتے وقت اس کو فروخت کرنے کی حتمی نیت نہیں تھی، بلکہ اب تک نیت میں تردد رہا  ہے ، اس لیے یہ پلاٹ  تجارتی مال میں شامل نہیں ہو گا اور اس پر زکات فرض نہیں ہے۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 168):

"(ومن اشترى جارية للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة) لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة (وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة) لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر". 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202113
تاریخ13-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں