بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معتکف کے لیے بازار سے گھر کا سودا لانا

سوال

معتکف بازار سے گھر کے لیے ضروری سودا سلف لا سکتا ہے یا نہیں،  جب کہ گھر میں دوسرا کوئی موجود نہیں, مجبوری ہے؟

جواب

معتکف کے لیے بازار جا کر گھر کے لیے ضروری سودا سلف لانا جائز نہیں، اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا، البتہ مسجد میں رہتے ہوئے بذریعہ فون یا کسی اور ذریعہ سے خرید و فروخت کرکے گھر تک سودا لے جانے کی ترتیب بنانا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (2 / 448):
"(وخص) المعتكف (بأكل وشرب ونوم وعقد احتاج إليه) لنفسه أو عياله فلو لتجارة كره (كبيع ونكاح ورجعة) فلو خرج لأجلها فسد لعدم الضرورة".
و في الرد:

"(قوله: لعدم الضرورة) أي إلى الخروج حيث جازت في المسجد وفي الظهيرية، وقيل يخرج بعد الغروب للأكل والشرب اهـ وينبغي حمله على ما إذا لم يجد من يأتي له به فحينئذ يكون من الحوائج الضرورية كالبول، بحر". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202075
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں