بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی نماز فاسد ہونے کی صورت میں اگلے دن تراویح ور قرآن کے اعادہ کا حکم

سوال

 اگر تراویح میں کوئی ایسی غلطی کریں جس سے معنی بالکل الٹ جائے (مثلاً "وما انا من المشركین" کی بجائے "وما انا من المسلمین") پڑھ دیا اور اگلے دن اس بارے میں معلوم ہوا تو کیا حکم ہے؟ آیا کہ ان دو رکعتوں کی قرآت دہرانا ہوگی کہ جس میں غلطی ہوئی؟ اور کیا ان رکعتوں کی بھی قضا کرنی ہو گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر تراویح کی نماز میں ایسی غلطی ہوجائے کہ جس سے نماز فاسد ہوجائے اور اگلے دن معلوم ہوا تو اس صورت میں اگلے دن ان دو رکعتوں کی قضا لازم نہیں ہوگی، البتہ قرآن کریم مکمل کرنے کے لیے  ان رکعتوں میں پڑھے جانے والے قرآن کا اعادہ  کرنا لازم ہوگا۔

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 98):

"و إذا فسد الشفع وقد قرأ فيه لايعتد بما قرأه فيه ويعيد القراءة؛ ليحصل الختم في الصلاة الجائزة."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202074
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں