بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میں اپنی بیوی کو چھ طلاق دے چکا ہوں کہنے کا حکم

سوال

زید نے تین بندوں کو کال کر کے بتایاکہ میں اپنی بیوی کو تین طالاق دے چکاہوں۔ پھر اس نے ایک اور کو کال کر کے بتا یا کہ میں تین کے بجائے  چھ طلاق دے چکا ہوں۔ کیا اس کی بیوی اس کے لیے حلال ہو گی یا اس کی بیوی طلاق ہوجائے گی؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں زید کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں، اس کی بیوی اس کے لیے حلال نہیں ہے، عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، عدت میں یا عدت کے بعد تجدیدِ نکاح کی بھی اجازت نہیں ہے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (3 / 295):

"(قوله: فهو إقرار منه بحرمتها) عبارة البزازية: قال في المحيط: فهذا إقرار منه بحرمتها عليه في الحكم اهـ وأفاد قوله: "في الحكم" أي في القضاء أنها لاتحرم ديانةً إذا لم يكن حرمها من قبل كما لو أخبر بطلاقها كاذبًا".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202072
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں