بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی جگہ زرعی زمین اور گھر ہو تو کیا وہ وطن اصلی ہے؟

سوال

اگر کسی شخص کی دو جگہ رہائش ہو،  ایک جگہ ذاتی مکان اور دوسری جگہ سو کلومیٹر  سے زیادہ فاصلہ پر زرعی زمین، مکان اور رہائش ہو ،  لیکن ادھر  بچے نہ ہوں اور کام یعنی زمین کی دیکھ  بھال کے لیے، یہاں رکتا ہو تو  کیا یہ دوسر ی جگہ مسافر ہوگا یا مقیم یعنی قصر نماز ادا کرے گا یا مقیم والی؟

جواب

فقہاءِ کرام   نے وطنِ اصلی کی تعریف یہ کی ہے کہ انسان کی جائے ولادت یا  جہاں اس نے شادی کرکے رہنے کی نیت کرلی یا کسی جگہ مستقل رہنے کی نیت کرلی تو یہ جگہ وطنِ اصلی بن جاتی ہے، مذکورہ صورت میں جس جگہ زرعی زمین اور عارضی رہائش ہے، مستقل رہائش نہیں ہے، وہ جگہ وطن اصلی نہ بنے گی، اگر 15 دن رہنے کی نیت کرکے آئے گا تو پوری نماز پڑھے گا  ورنہ قصر پڑھے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202063
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں