بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وضو خانے کے اوپر کے کمروں میں امام کو رہائش دینا

سوال

 ایک مسجد ہے جس کے وضو خانہ کے اوپر چند کمرے ہیں جس میں پہلے کرایہ دار رہتے تھے اور اب خالی  کرالیےگئے ہیں؛ کیوں کہ وہ لوگ گانا بجاتے تھے جس کی وجہ سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی تھی اور اب خالی رہنے کی وجہ سے جمعہ میں لوگ ان کمروں میں نماز پڑھتے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ امام صاحب کی شادی ہو چکی ہے اور ان کی اہلیہ اپنے گھر میں ہیں جس کی وجہ سے ان کو بہت پریشانی ہوتی ہے اور ہم یعنی اہل محلہ اور مسجد کے سیکرٹری صاحب یہ چاہتے ہیں کہ امام صاحب اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ان کمروں میں سے کسی ایک میں رہیں؛ تاکہ ان کی پریشانی دور ہو، کیا ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ چوں کہ اوپر کے کمرے مسجد کے حکم میں نہیں؛ اس لیے ان میں امام صاحب کو رہائش دینا درست ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202059
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں