بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایہاب نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا "ایہاب" نام رکھنا درست ہے اور اس کے معنی کیا ہیں؟ 

جواب

’’اِیہاب‘‘ (إِیْهَاب) نام رکھنا جائز ہے، اور عربی زبان میں اس کے مختلف معنے ہیں:

۱- ہدیہ تیار کرنا۔

۲- کسی چیز کا ہمیشہ ساتھ رہنا ۔

۳- کسی چیز کو حاصل کرنے پر قدرت دینا وغیرہ ۔

"وأَصْبَحَ فلان مُوهِـباً، بكسر الهاء، أَي مُعِدّاً قادراً.
وأَوهَبَ لك الشيءَ: أَعدَّه.
وأَوْهَبَ لك الشيءُ: دامَ.
قال أَبو زيد وغيره: أَوهَبَ الشيءُ إِذا دام، وأَوهَبَالشيءُ إِذا كان مُعَدّاً عند الرجل، فهو مُوهِب؛
وأَنشد: عَظِـيمُ القَفا، ضَخْمُ الخَواصِرِ، أَوهَبَتْ * له عَجْوَةٌ مَسْمُونةٌ، وخَمِـيرُ.
(* قوله «ضخم الخواصر» كذا بالمحكم والتهذيب والذي في الصحاح رخو الخواصر.) وأَوهَبَ لك الشيءُ: أَمْكَنَك أَن تأْخُذَه وتَنالهُ؛ عن ابن الأَعرابي وحده.
قال: ولم يقولوا أَوهَبْتُه لك". (لسان العرب، ماده: و،ه،ب) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202018
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں