بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دورانِ اعتکاف گھر والی کا فون اٹھانا

سوال

کیا معتکف اپنی بیوی کی فون کال لے سکتا ہے؟

جواب

اعتکاف کا مقصد اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنا اور اس کی عبادت میں مشغول رہنا ہے، لہذا معتکف کو چاہیے کہ وہ نماز، تلاوت، ذکر و اذکار، تعلیم و تعلم اور دیگر عبادات میں اپنا زیادہ وقت گزارے، تاہم ضرورت کے وقت اپنی بیوی یا کسی اور شخص سے بذریعہ فون گفتگو کرے تو اس کی اجازت ہے، بلاضرورت طویل بات چیت نہ کرے۔

رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہوتے تو بوقتِ ضرورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بات بھی کرتے تھے،  چوں کہ حجرہ شریفہ مسجد سے متصل تھا تو بسا اوقات آپ ﷺ خود مسجد میں رہتے ہوئے سر مبارک حجرے کے اندر کردیتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سر مبارک دھودیتی تھیں، اور بعض اوقات سر مبارک کے بالوں میں کنگھی کرتی تھیں۔ (بخاری) ایک موقع پر آپ ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے کے اعتکاف میں تھے تو ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا  آپ ﷺ سے ملاقات کرنے مسجد  تشریف لائیں، آپ ﷺ انہیں رخصت کرنے مسجد کے صحن تک تشریف لے گئے۔(بخاری)  فقط و اللہ ا علم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202017
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں