بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف نقدی ہو تو نصاب کا حساب کیسے؟

سوال

اگر کسی کے پاس نہ سونا ہو نہ چاندی, صرف نقد پیسے ہوں تو صاحبِ  نصاب ہونے کا حساب کیسے لگایا جا تا ہے؟

جواب

اگر کسی کے پاس صرف نقدی ہو تو زکاۃ کے واجب ہونے کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی  کی قیمت ہے،  چاندی کی قیمت گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہے، اس اعتبار سے روپوں کے حساب میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ آج یعنی 31 مئی 2020ء کو چاندی،  1092  روپے فی تولہ ہے، اس حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت 57330 روپے ہے، یعنی اگر کسی کے پاس بنیادی ضرورت (کھانے پینے کے اخراجات اور یوٹیلٹی وغیرہ کے واجب الادا اخراجات) اور قرض کے علاوہ اتنی رقم کسی کے پاس موجود ہو تو وہ صاحبِ نصاب کہلائے گا، اور سال پورا ہونے پر اس پر زکاۃ کی ادائیگی واجب ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109202010
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں