بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جہیز کے سامان پر زکاۃ

سوال

ہمارے  پاس بہن کے لیے جہیز کا سامان رکھا ہوا ہے، جس کی مالیت تقریباً دو سے تین لاکھ کے درمیان ہے تو  کیا اس کی زکاۃ ادا کریں؟

جواب

زکاۃ کا وجوب سونا، چاندی، کیش اور مالِ تجارت پر ہوتا ہے، اگر صرف سونے کے علاوہ ان میں سے کسی ایک یا دو یا زائد  اشیاء کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جائے تو  اس کی زکاۃ ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔

لہذا اگر جہیز میں سونا، چاندی رکھا ہے جس کی مالیت دو سے تین لاکھ کے درمیان ہے تو اس کی زکاۃ ادا کرنا لازم ہو گا۔ اور اگر جہیز کے سامان میں سونا چاندی نہیں، بلکہ دیگر اشیاء اور سامان ہے تو ان کی زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201999
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں