بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تالاب میں پیشاب کرنے کے بعد اس سے غسل کرنا

سوال

تالاب میں کسی نے پیشاب کردیا، کیا اس تلاب میں غسل کرنے سے غسل ہو جائے گا?

جواب

اگر وہ تالاب بڑا ہے اور  کم از کم دہ در دہ ( پانی کی سطح کا رقبہ 225 اسکوائر فٹ ) ہے تو  جاری پانی کے حکم میں ہے، اگر اس میں ایک طرف کسی نے پیشاب کردیا اور نجاست کا اثر (بو، رنگ، ذائقہ) ظاہر نہ ہو تو   اس پانی سے غسل کرنا درست ہوگا، اور اگر تالاب چھوٹا ہو تو اس میں پیشاب کرنے سے اس تالاب  کا پانی  ناپاک ہوجائے گا،  اس سے غسل کرنا صحیح نہیں ہوگا۔

باقی تالاب میں پیشاب نہیں کرنا چاہیے، ٹھہرے ہوئے اور کم پانی میں پیشاب کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار (1/ 326):
"أن الجاري لاينجس ما لم يظهر فيه أثر النجاسة".

اللباب في شرح الكتاب (ص: 11):
"وأما الماء الجاري إذا وقعت فيه نجاسةٌ جاز الوضوء منه، إذا لم ير لها أثرٌ؛ لأنها لاتستقر مع جريان الماء. والغدير العظيم الذي لايتحرك أحد طرفيه بتحريك الطرف الآخر".  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201997
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں