بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے لیے شوہر کے پیسے اس کی اجازت کے بغیر لے کر استعمال کرنے کا حکم

سوال

 بیوی شوہر کے  پیسے اس کی اجازت کے بغیر اپنے لیے  استعمال کر سکتی ہے؟   یعنی شوہر کے پیسے چوری کرتی ہو۔جب کہ شوہر اس کی تمام ضروریات بطریقِ  احسن پوری کرتا ہو اور اس کی جیب خرچ بھی دیتا ہو۔

جواب

اگر شوہر بیوی کا نفقہ اور تمام ضروریات پوری کرتا ہو  تو بیوی کے لیے شوہر کے پیسے اس کی اجازت کے بغیر خفیہ طور سے لے کر استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201995
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں