بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ پانچ بیٹوں اور تین بیٹیوں میں متروکہ سو من گندم کی تقسیم

سوال

ہمارے والد وفات پا چکے ہیں اور ہماری زمین جو کہ ابھی تک والد کے نام ہے. 100 من گندم زمین کی پیداوار ہو تو وہ ہم کیسے تقسیم ہو گی؟ ہم 5 بھائی اور 3 بہنیں اور ایک ہماری والدہ(بیوہ) ہیں اور کوئی ابو کے والدین اور بہن بھائی حیات نہیں ہے.  برائے مہربانی حساب کا طریقہ بھی سمجھا دیں تا کہ آئندہ کےلیے بھی ہم بآسانی تقسیم کرلیا کریں.

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سو من گندم میں سے ساڑھے بارہ من گندم بیوہ کو،  13.46 من گندم ہر بیٹے کو اور 6.73 من گندم ہر بیٹی کو ملی گی۔

نیز آئندہ کے لیے ایک بیوہ، پانچ بیٹوں اور تین بیٹیوں میں مرحوم کا ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جو بھی ترکہ ہو اس کے ایک سو چار حصے کرکے تیرہ (13) حصے بیوہ کو ، چودہ(14) حصے ہر بیٹے کو اور سات (7) حصے ہر بیٹی کو دے دیے جائیں۔

اور اگر فیصد کی صورت میں تقسیم کرنا چاہیں تو اس کا تناسب وہی ہوگا جو ابتدا میں درج کیا گیا، یعنی کل پیداوار کا 12.5 فیصد بیوہ کو، 13.46 فیصد ہر بیٹے کو اور 6.73 فیصد ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔  

نیز واضح رہے کہ مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو یا اس کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے اس کا قرض ادا کیا جائے گا، اور پھر ایک تہائی ترکہ میں سے وصیت کو پورا کیا جائے گا، اس کے بعد ترکہ تقسیم کیا جائے گا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201974
تاریخ12-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں