بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں فحش مواد دیکھنے یا پڑھنے سے انزال ہوگیا تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر روزے کی حالت میں فحش مواد دیکھنے یا پڑھنے سے بنا عضو خاص کو ہاتھ لگائے منی کا خروج ہوگیا تو روزے کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا یہ مشت زنی کے حکم میں ہے؟

جواب

فلم دیکھنا مطلقاً ناجائز ہے، اگر فحش ہو تو دوہرا گناہ ہے، اسی طرح فحش لٹریچر پڑھنا بھی ناجائز ہے، اور  یہ دونوں ناجائز کام اگر رمضان میں ہو ں تو کئی گناہوں کا مجموعہ اور روزے کا اجر و ثواب ختم کرنے کا ذریعہ ہے، جس طرح رمضان المبارک میں نیکیوں کا ثواب زیادہ ہوجاتاہے، اسی طرح اس مبارک وقت میں گناہ پر زیادہ پکڑ کا خطرہ ہے، بلکہ بعض احادیث میں اس طرف اشارہ بھی موجود ہے، اس لیے اگر کسی شخص سے واقعۃً مذکورہ فعل سرزد ہوا ہو  تو  اسے صدق دل سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔

جہاں تک روزے کے فساد  یا عدمِ فساد کا تعلق ہے تو  اگر انزال میں  اپنے  عمل کا دخل نہ تھا، صرف دیکھنے سے ہی انزال ہوگیا تھا تو اس صورت  روزہ فاسد نہ ہوگا، بصورتِ دیگر روزہ فاسد ہوجائے گا۔

یہ مشت زنی کے حکم میں تو نہیں، لیکن گناہ کے اعتبار سے دونوں فعل گناہ کبیرہ ہیں۔ البتہ مشت زنی کی صورت میں انزال ہوجائے تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور قضالازم ہوگی۔ یہ یاد رہے کہ مشت زنی کرنا بھی حرام اور سخت گناہ کبیرہ ہے جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں ۔ 

تحفة الفقهاء    میں ہے:

"وكذلك لو نظر إلى فرج امرأة شهوة فأمنى أو تفكر فأمنى لايفسد صومه؛ لأنه حصل الإنزال لا بصنعه فلايكون شبيه الجماع لا صورةً ولا معنىً". (كتاب الصَّوْم ١ / ٣٥٣، ط: دار الكتب العلمية)  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201957
تاریخ11-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں