مرغی کے ذریعہ عقیقہ کرنا
سوال
کیا مرغیاں ذبح کرکے عقیقہ کیا جاسکتا ہے؟؟ اگر ہاں تو کتنی مرغیاں ذبح کرنا ضروری ہے؟؟؟
جواب
عقیقہ کے لیے جانوروں میں ان شرائط کاہوناضرروی ہے جوشرائط قربانی کے جانوروں کے لیے ہیں۔یعنی جن جانوروں کی قربانی درست ہے ان سے عقیقہ کرنابھی درست ہے اور یہ بات ہر مسلمان کو بخوبی معلوم ہے کہ مرغی کی قربانی نہیں ہوتی اس لئے مرغی کے ذریعہ عقیقہ بھی ادا نہیں ہو گا۔
المعجم الصغير (1 / 150):
" عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ولد له غلام فليعق عنه من الإبل أو البقر أو الغنم.
فتاوى شامی میں ہے:
’’’يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضةً أو ذهباً، ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعاً على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئاً أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنةً مؤكدةً شاتان عن الغلام، وشاةً عن الجارية، غرر الأفكار ملخصاً، والله تعالى أعلم‘‘.(6/ 336، کتاب الاضحیۃ، ط: سعید) فقط و الله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

