بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ عورت کا زکاۃ دینا

سوال

ایک بیوہ عورت جو کہ صاحبِ نصاب ہے،  تین نابالغ بچے بھی ہیں،  کیا وہ عورت زکاۃ دے سکتی ہے؟

جواب

جو عورت صاحبِ نصاب ہو اُس کے اوپر زکاۃ کی ادائیگی لازم اور واجب ہوتی ہے، خواہ اس کا شوہر حیات ہو یا نہ ہو، لہذا آپ نے جس خاتون کا ذکر کیا ہے ان کا زکاۃ دینا صرف ’’جائز‘‘ نہیں، بلکہ ضروری ہے۔

یاد رہے کہ عامۃ الناس میں یہ بات غلط مشہور ہے کہ بیوہ مستحق زکاۃ ہے، جب کہ کسی عورت کا بیوہ ہونا زکاۃ کا مستحق ہونے کا سبب نہیں ہے، زکاۃ کا مستحق ہونے کا مدار فقیر و مسکین ہونے پر ہے، اگر بیوہ عورت نادار و فقیر ہو تو وہ زکاۃ کی مستحق ہوگی، اگر صاحبِ نصاب ہو تو وہ مستحق نہیں ہوگی، بلکہ اس پر خود زکاۃ ادا کرنا واجب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201900
تاریخ11-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں