بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اشارہ سے نماز پڑھنے والے کی امامت

سوال

کیا وہ بندہ جو رکوع اور سجدہ میں اشارہ کرتا ہے وہ وہ نماز تراویح میں تندرست کی امامت کر سکتا ہے یانہیں؟

جواب

جو شخص رکوع و سجود سے قاصر ہونے کی وجہ سے اشارہ سے نماز پڑھتا ہو اس کا امامت کرانا درست نہیں، اس کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی، لہذا اگر حافظ صاحب معذور ہیں اور اس کی وجہ سے  اشارہ سے رکوع و سجود کرتے ہوں تو وہ اس حالت میں امامت نہ کریں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 579):
"(و) لا (قادر على ركوع وسجود بعاجز عنهما) لبناء القوي على الضعيف". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201895
تاریخ11-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں