بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قنوتِ نازلہ میں مقتدی آمین سراً کہے یا جہراً؟

سوال

قنوتِ نازلہ کے وقت مقتدیین کے لیے دعا پر سرًا یا جہرًا آمین کہنے کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

قنوتِ نازلہ میں اگر امام جہرًا دعا پڑھے تو مقتدی سرًا آمین کہیں!

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

’’۔۔۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ چھوڑے رکھیں اور مقتدی آمین بہ اخفا کہیں‘‘۔ (ج۴ / ص۱۵۳)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 11):

"والذي يظهر لي أن المقتدي يتابع إمامه إلا إذا جهر فيؤمن".

فقط و الله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201882
تاریخ11-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں