بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں چھوڑے ہوئے برتن کا حکم

سوال

اگرکوئی مسجدمیں افطاری لائے اور اپنا برتن چھوڑجاے تو اس کو اپنے ذاتی استعمال میں لاناجائز ہے؟ اور اس برتن پر ایک سال کاعرصہ گزرگیاہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ برتن کا حکم 'لقطہ' کا ہے، یعنی اگر ممکن ہو تو اسے اس کے مالک تک پہنچایا جائے یا اسے محفوظ رکھا جائے یہاں تک کہ مالک آکر علامت بتاکر لے لے، اور اگر مالک تک پہنچانا ممکن نہ ہو اور حفاظت مشکل ہو تو مالک کی طرف سے اسے صدقہ کرکے کسی مستحقِ زکاۃ کو دے دیا جائے۔اگر مالک واپس آکر  علامت بتاکر طلب کرے تو اس کی قیمت اسے ادا کرنی ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 279):

(ولو من الحرم أو قليلة أو كثيرة) فلا فرق بين مكان ومكان ولقطة ولقطة (فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201869
تاریخ11-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں