بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حیض کے پندرہ دن بعد خون آئے تو وہ حیض ہو گا یا استحاضہ؟

سوال

 اگر حیض کے غسل کے بعد پندرہ دن بعد دوبارہ خون آئے اور عورت کی  عادت معلوم ہو تو یہ حیض میں شمار ہوگا یا استحاضہ میں؟

جواب

واضح  رہے کہ  دو حیضوں  کے  درمیان   پاکی  کی  کم از کم  میعاد پندرہ دن ہے، اگر ایک حیض کے بند ہونے کے پندرہ دن بعد  خون جاری ہو جائے تو یہ حیض ہی شمار ہو گا؛ کیوں کہ حیض کے اَیام میں عادت کی تبدیل معمول کی بات ہے، تاہم اگر پندرہ دن بعد جاری ہونے والا خون ایک یا دو دن میں بند ہو جائے،  اس کے بعد  جاری نہ رہے اور پھر دس دن کے اندر اندر دوبارہ نہ آئے، تو  یہ استحاضہ شمار ہو گا، کیوں کہ حیض  کی کم  از  کم مدت تین دن  ہے، جو خون تین دن سے کم ہوتا ہے  وہ حیض نہیں ہوتا، بلکہ استحاضہ ہوتا ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 37):

"إذا كان الطهر خمسة عشر يومًا أو أكثر يعتبر فاصلًا فيجعل كل واحد من الدمين أو أحدهما بانفراده حيضًا حسب ما أمكن من ذلك، هكذا في المحيط.

و أقل الطهر خمسة عشر يومًا ولا غاية لأكثره إلا إذا احتيج إلى نصب العادة كما إذا بلغت مستمرة الدم فيقدر حيضها بعشرة أيام من كل شهر و باقيه طهر، هكذا في الهداية."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201803
تاریخ10-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں