بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کو عورت چوم لے

سوال

اگر ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے، ایک غیر محرم لڑکی آکر اس کو چوم لے تو کیا نماز ٹوٹ جائے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر نماز  کے دوران آدمی کو کوئی عورت چوم لے اور اس کو شہوت ہوجائے تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی۔ اگر آدمی کو شہوت نہ ہو تو اس کی نماز نہیں ٹوٹے گی۔

نیز  واضح ہو کہ غیر محرم لڑکی سے غیر ضروری تعلق رکھنا ناجائز ہے۔  اور بے تکلفی اس حد تک بڑھ جانا کہ بوسہ دینے کی قباحت کا احساس بھی نہ رہے، یہ بات انتہائی شرمناک  ہے،  پھر نماز  کی حالت کے احترام کو نظر انداز کرکے اس طرح کی حرکت کرنا اس پر مستزاد ہے۔ ایسے تعلقات میں مبتلا  لڑکے اور  لڑکی کو   اپنی  حالت پر غور کرتے ہوئے ندامت کے ساتھ  اللہ  سے معافی  مانگنی  چاہیے اور اپنے برے اعمال پر توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 628):

"أمّا لو قبلت المرأة المصلي و لم يشتهها لم تفسد صلاته."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201752
تاریخ10-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں