بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح میں ایک ساتھ بیس رکعت کی نیت کرنا

سوال

کیا  تراویح میں ایک ساتھ امام 20  رکعات کی نیت کر سکتا ہے یا ہر رکعت کی الگ الگ نیت کرے؟

جواب

نیت دل کے ارادے کا نام ہے، تراویح پڑھتے ہوئے دل میں یہ ہو کہ تراویح پڑھ رہا ہوں، اتنی نیت کافی ہے۔ نیز اگر کسی نے تراویح کی تخصیص کی نیت کے بغیر تراویح کی کچھ رکعات پڑھ لیں تو بھی وہ تراویح ادا ہوگئیں۔

نیز ہر  دو رکعت کی نیت ضروری نہیں، بہتر ہے، اور ایک دفعہ ہی بیس رکعت کی نیت کرلے تو بھی جائز ہے۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (1/ 286):

"نقول: المصلي لايخلو، إما أن يكون متنفلاً أو مفترضاً، فأما إن كان متنفلاً لاتكفيه نية مطلق الصلاة، لأنّ الصلاة أنواع في منازلها لو أداها منزلة النفل، فانصرف مطلق النية إليه، وفي صلاة التراويح يكفيه أيضاً مطلق النية عند عامة المشايخ؛ لأنها سنّة الصحابة، وفي سائر السنن تكفيه مطلق النية على ظاهر الجواب، وبه أخذ عامة المشايخ".

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201712
تاریخ09-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں