بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماہ واری بند ہونے کے بعد پھر خون آگیا

سوال

میری زوجہ کو ایام حیض کی بے قاعدگی کا مسئلہ ہے، ایام ختم ہو جانے کے بعد اس نے غسل کر کے روزہ رکھ لیا، دوپہر کے وقت اس کو دوبارہ حیض کی چھینٹوں  کے نشان ملے، اب کیا کرے  اس کا روزہ ہو جائے گا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر ایسا ماہواری کے دس دن مکمل ہونے سے پہلے ہوا ہو، تو اس صورت میں اس کا روزہ نہ ہوگا،  اور دس دن مکمل ہونے تک اگر خون بند ہوجائے تو یہ سارے ایام ماہواری کے شمار ہوں گے، البتہ اگر خون دس دن سے متجاوز ہوجائے تو  ایسی صورت میں گزشتہ ماہ جتنے دن ماہواری آئی تھی اتنے دن حیض شمار ہوں گے اور بقیہ ایام استحاضہ کے شمار ہوں گے۔

البحر الرائق میں ہے:

"ولو زادت و لم تجاوز العشرة كان كل حيضًا بالإتفاق". ( ١ / ٢٠٣، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و إن جاوز العشرة ففي ... المعتادة معروفتها في الحيض حيض و الطهر طهر". ( ١ / ٣٧، ط: رشيديه)  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201690
تاریخ09-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں