بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شراکت کے کاروبار کو ایک شریک لینا چاہے

سوال

شراکت کے کاروبار کو اگر ایک حصہ دار لینا چاہے تو اس کا کیا طریقہ ہے جب کہ شروع میں کچھ بھی طے نہیں ہوا تھا؟

جواب

شرکاء راضی ہوں تو اپنے حصص ایک دوسرے کو فروخت کرسکتے ہیں یعنی ایک شریک دوسرے شریک کو اپنا حصہ باہمی رضامندی سے ویلیو مقرر کرکے فروخت کرسکتا ہے۔ اس کے لیے پہلے سے طے ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور اگر شروع میں کچھ بھی طے نہ ہونے سے کچھ اور مراد ہے تو وضاحت کرکے دوبارہ سوال ارسال کردیجیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144109201675
تاریخ09-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں