نہاتے ہوئے روزہ دار کے کان میں پانی چلا جائے
سوال
اگر نہاتے ہوئے کان میں پانی چلا جاۓ تو کیا روزہ ٹوٹ جاۓ گا؟ اگر چلا جاۓ اور کان کے اندر تک پہنچ جاۓ یا نہ پہنچے اس حالت میں کیا حکم ہے؟
جواب
غسل کے دوران خود بخود کان میں پانی جانے کی صورت میں روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ اپنے ارادے سے کان میں پانی ڈالنے کی صورت میں اگر پانی پردے کے اندر چلا جائے تو احتیاطاً ایک روزہ کی قضا کرلینا چاہیے۔
یاد رہے کہ اگر کسی نے روزے کے دوران کان میں دوا ڈالی اور وہ کان کے پردے سے اندر چلی گئی تو روزہ فاسد ہوجائے گا، روزے کی قضا کرنی ہوگی۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
"(أَوْ دَخَلَ الْمَاءُ فِي أُذُنِهِ وَإِنْ كَانَ بِفِعْلِهِ) عَلَى الْمُخْتَارِ كَمَا لَوْ حَكَّ أُذُنَهُ بِعُودٍ ثُمَّ أَخْرَجَهُ وَعَلَيْهِ دَرَنٌ ثُمَّ أَدْخَلَهُ وَلَوْ مِرَارًا".
فتاوی شامی میں ہے:
"(قَوْلُهُ: وَإِنْ كَانَ بِفِعْلِهِ) اخْتَارَهُ فِي الْهِدَايَةِ وَالتَّبْيِينِ وَصَحَّحَهُ فِي الْمُحِيطِ، وَفِي الْوَلْوَالِجيَّةِ أَنَّهُ الْمُخْتَارُ، وَفَصَّلَ فِي الْخَانِيَّةِ بِأَنَّهُ إنْ دَخَلَ لَا يُفْسِدُ وَإِنْ أَدْخَلَهُ يَفْسُدُ فِي الصَّحِيحِ؛ لِأَنَّهُ وَصَلَ إلَى الْجَوْفِ بِفِعْلِهِ فَلَا يُعْتَبَرُ فِيهِ صَلَاحُ الْبَدَنِ، وَمِثْلُهُ فِي الْبَزَّازِيَّةِ وَاسْتَظْهَرَهُ فِي الْفَتْحِ وَالْبُرْهَانِ شُرُنْبُلَالِيَّةٌ مُلَخَّصًا. وَالْحَاصِلُ الِاتِّفَاقُ عَلَى الْفِطْرِ بِصَبِّ الدُّهْنِ وَعَلَى عَدَمِهِ بِدُخُولِ الْمَاءِ. وَاخْتَلَفَ التَّصْحِيحُ فِي إدْخَالِهِ، نُوحٌ". ( كتاب الصوم، بَابُ مَا يُفْسِدُ الصَّوْمَ وَمَا لَا يُفْسِدُهُ، ٢ / ٣٩٦، ط: دار الفكر) فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

