بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق دے دیتا ہوں، چھوڑ دیتا ہوں کہنے کا حکم

سوال

1. اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے تکرار کے دوران غصے کی حالت میں فقط دھمکانے کے لیے یہ الفاظ کہہ دے کہ ٹھیک ہے کہ (میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں یا میں تمہیں فارغ کر دیتا ہوں یا پھر میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں)تو ایسی صورت میں کیا طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟

2. اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے تکرار کے دوران غصے کی حالت میں فقط دھمکانے کے لیے سوالیہ لہجے میں یہ الفاظ کہہ دے کہ ٹھیک ہے کہ( میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں یا میں تمہیں فارغ کر دیتا ہوں یا پھر میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں) جس پر بیوی کا ردعمل جو ظاہر ہوا، اس نے کہا تم مجھے ہی چھوڑنے کی بات کیوں کرتے ہو یا بیوی خاموش ہوجائے اور تکرار نہ کریں تو ایسی صورت میں کیا طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں?

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کا  دھمکی آمیز  یا سوالیہ لہجے میں بیوی سے یہ کہنا کہ ’’فارغ کردیتا ہوں ، طلاق دے دیتا ہوں ، چھوڑدیتا ہوں ‘‘، ان  الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ البتہ آئندہ کے لیے شوہر کو اس طرح کے الفاظ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201629
تاریخ08-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں